World War COVID Guerre mondiale: From WeaponWorld to PeaceWorld; Learner, begin... De la terre en armes au monde paisible ; Apprenti, débute
We live on WeaponWorld. Why not PeaceWorld? How would that work? What should we expect? Has that transition been discussed to your satisfaction, or was it suppressed?
I'm slopping a ladle full of forbidden PeaceWorld Mulligan Stew onto your WeaponWorld prison zinc tray. Next!
Nous habitons la terre en armes. Pourquoi pas au monde paisible ? Comment cela marcherait-il ? Cette transition t'a-t-elle été discutée de façon satisfaisante ou supprimée ?
Je te verse une louchée interdite de Ragout Mulligan du monde paisible sur ton zinc pénitentiaire de la terre en armes. Au suivant !
World War COVID Guerre mondiale: From WeaponWorld to PeaceWorld; Learner, begin... De la terre en armes au monde paisible ; Apprenti, débute
پہاڑ پر خطبہ – Sermon on the Mount, Matthew 5-7, Bible, Urdu (NO AUDIO)
Use Left/Right to seek, Home/End to jump to start or end. Hold shift to jump forward or backward.
https://www.buzzsprout.com/1106222/13366779
LEARNER full text (2024)
PeaceWorld or death
https://www.buzzsprout.com/1106222/13381922
APPRENTI texte integral (2024)
Le monde paisible ou la mort
World War Covid
Learner, begin
پہاڑ پر خطبہ, Sermon on the Mount, Matthew 5-7, Bible, Urdu (NO AUDIO)
1وہ اِس بھِیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بَیٹھ گیا تو اُس کے شاگِرد اُس کے پاس آئے۔
2 اور وہ اپنی زبان کھولکر اُن کو یُوں تعلِیم دینے لگا۔
3 مُبارک ہیں وہ جو دِل کے غریب ہیں کِیُونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
4 مُبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کِیُونکہ وہ تسلّی پائیں گے۔
5 مُبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کِیُونکہ وہ زمِین کے وارِث ہوں گے۔
6 مُبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھُوکے اور پیاسے ہیں کِیُونکہ وہ آسُودہ ہوں گے۔
7 مُبارک ہیں وہ جو رحمدِل ہیں کِیُونکہ اُن پر رحم کِیا جائے گا۔
8 مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کِیُونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔
9 مُبارک ہیں وہ جو صُلح کراتے ہیں کِیُونکہ وہ خُدا کے بَیٹے کہلائیں گے۔
10 مُبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب سے ستائے گئے ہیں کِیُونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
11 جب میرے سبب سے لوگ تُم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بُری باتیں تُمہاری نِسبت ناحق کہیں گے تو تُم مُبارک ہوگے۔
12 خُوشی کرنا اور نِہایت شادمان ہونا کِیُونکہ آسمان پر تُمہارا اجر بڑا ہے اِس لِئے کے لوگوں نے اُن نبِیوں کو بھی جو تُم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔
13 تُم زمِین کے نمک ہو لیکِن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کِس چِیز سے نمکِین کِیا جائے گا؟ پھِر وہ کِسی کام کا نہِیں سِوا اِس کے کہ باہِر پھینکا جائے اور آدمِیوں کے پاؤں کے نِیچے رَوندا جائے۔
14 تُم دُنیا کے نُور ہو۔ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے وہ چھِپ نہِیں سکتا۔
15 اور چراغ جلا کر پیمانہ کے نِیچے نہِیں بلکہ چِراغدان پر رکھتے ہیں تو اِس سے گھر کے سب لوگوں کو روشنی پہُنچتی ہے۔
16 اِسی طرح تُمہاری روشنی آدمِیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تُمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تُمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجِید کریں۔
17 یہ نہ سَمَجھو کہ مَیں توریت یا نبِیوں کی کتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہِیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔
18 کِیُونکہ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔
19 پَس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑے گا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکِن جو اُن پر عمل کرے گا اور اُن کی تعلِیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔
20 کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقِیہوں اور فرِیسِیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہوگے۔
21 تُم سُن چُکے ہوکہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خُون نہ کرنا اور جو کوئی خُون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا۔
22 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنے بھائِی پر غُصّے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو کوئی اپنے بھائِی کو پاگل کہے گا وہ صدرِ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو اُس کو احمق کہے گا وہ آتشِ جہنّم کا سزاوار ہوگا۔
23 پَس اگر تُّو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُزرانتا ہو اور وہاں تُجھے یاد آئے کہ میرے بھائِی کو مُجھ سے کُچھ شِکایت ہے۔
24 تو وَہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائِی سے مِلاپ کر تب آ کر اپنی نذر گُزران۔
25 جب تک تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلدی صُلح کرلے۔ کہِیں اَیسا نہ ہوکہ مُدّعی تُجھے مُنصِف کے حوالہ کردے اور مُنصِف تُجھے سِپاہی کے حوالہ کردے اور تُو قَید خانہ میں ڈالا جائے۔
26 مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُو کوڑی کوڑی ادا نہ کردے گا وہاں سے ہرگِز نہ چھُوٹے گا۔
27 تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔
28 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کرچکا۔
29 پَس اگر تیری دہنی آنکھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُسے نِکال کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔
30 اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ جائے۔
31 یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑے اُسے طلاق نامہ لِکھ دے۔
32 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو حرامکاری کے سِوا کِسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اُس سے زِنا کراتا ہے اور جو کوئی اُس چھوڑی ہُوئی سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے۔
33 پھِر تُم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جھُوٹی قَسم نہ کھانا بلکہ اپنی قَسمیں خُداوند کے لِئے پُوری کرنا۔
34 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ بالکُل قَسم نہ کھانا۔ نہ تو آسمان کی کِیُونکہ وہ خُدا کا تخت ہے۔
35 نہ زمِین کی کِیُونکہ وہ اُس کے پاؤں کی چوکی ہے۔ نہ یروشلِیم کی کِیُونکہ وہ بُزُرگ بادشاہ کا شہر ہے۔
36 نہ اپنے سر کی قَسم کھانا کِیُونکہ تُو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہِیں کر سکتا۔
37 بلکہ تُمہارا کلام ہاں ہاں یا نہِیں نہِیں ہو کِیُونکہ جو اِس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے۔
38 تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔
39 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ شرِیر کا مُقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنا گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔
40 اور اگر کوئی تُجھ پر نالِش کر کے تیرا کُرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اُسے لے لینے دے۔
41 اور جو کوئی تُجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اُس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔
42 جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تُجھ سے قرض چاہے اُس سے مُنہ نہ موڑ۔
43 تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسِی سے محبّت رکھ اور اپنے دُشمن سے عَداوَت۔
44 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے محبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لِئے دُعا کرو۔
45 تاکہ تُم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بَیٹے ٹھہرو کِیُونکہ وہ اپنے سُورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔
46 کِیُونکہ اگر تُم اپنے محبّت رکھنے والوں ہی سے محبّت رکھّو تو تُمہارے لِئے کیا اجر ہے؟ کیا محصُول لینے والے بھی اَیسا نہِیں کرتے؟
47 اور اگر تُم فقط اپنے بھائِیوں ہی کو سَلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟ کیا غَیر قَوموں کے لوگ بھی اَیسا نہِیں کرتے؟
48 پَس چاہِیئے کہ تُم کامِل ہو جَیسا تُمہارا آسمانی باپ کامِل ہے۔
خَبردار اپنے راستبازی کے کام آدمِیوں کے سامنے دِکھانے کے لِئے نہ کرو۔ نہِیں تو تُمہارے باپ کے پاس جو آسمان پر ہے تُمہارے لِئے کُچھ اجر نہِیں ہے۔
2 پَس جب تُو خیرات کرے تو اپنے آگے نرسِنگا نہ بجوا جَیسا رِیاکار عِبادت خانوں اور کُوچوں میں کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی بڑائی کریں۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
3 بلکہ جب تُو خیرات کرے تو جو تیرا دہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔
4 تاکہ تیری خیرات پوشِیدہ رہے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
5 اور جب تُم دُعا کرو تو رِیاکاروں کی مانِند نہ بنو کِیُونکہ وہ عباتخانوں میں اور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہوکر دُعا کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو دیکھیں۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
6 بلکہ جب تُو دُعا کرے تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشِیدگی میں ہے دُعا کر۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
7 اور دُعا کرتے وقت غَیر قَوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو کِیُونکہ وہ سَمَجھتے ہیں کہ ہمارے بہُت بولنے کے سبب سے ہماری سُنی جائے گی۔
8 پَس اُن کی مانِند نہ بنو کِیُونکہ تُمہارا باپ تُمہارے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ تُم کِن کِن چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
9 پَس تُم اِس طرح دُعا کِیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک مانا جائے۔
10 تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جَیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمِین پر بھی ہو۔
11 ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
12 اور جِس طرح ہم نے اپنے قرضداروں کو مُعاف کِیا ہے تُو بھی ہمارے قرض ہمیں مُعاف کر۔
13 اور ہمیں آزمایش میں نہ لا بلکہ بُرائی سے بَچا [کِیُونکہ بادشاہی اور قُدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین]
14 اِس لِئے کہ اگر تُم آدمِیوں کے قُصُور مُعاف کرو گے تو تُمہارا آسمانی باپ بھی تُم کو مُعاف کرے گا۔
15 اور اگر تُم آدمِیوں کے قُصُور مُعاف نہ کرو گے تو تُمہارا باپ بھی تُمہارے قُصُور مُعاف نہ کرے گا۔
16 اور جب تُم روزہ رکھّو تو رِیاکاروں کی طرح اپنی صُورت اُداس نہ بناؤ کِیُونکہ وہ اپنا مُنہ بِگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔
17 بلکہ جب تُو روزہ رکھّے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو۔
18 تاکہ آدمِی نہِیں بلکہ تیرا باپ جو پوشِیدگی میں ہے تُجھے روزہ دار جانے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
19 اپنے واسطے زمِین پر مال جمع نہ کرو جہاں کِیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔
20 بلکہ اپنے لِئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کِیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔
21 کِیُونکہ جہاں تیرا مال ہے وَہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا۔
22 بدن کا چراغ آنکھ ہے۔ پَس اگر تیری آنکھ درُست ہو تو تیرا سارا بَدَن روشن ہوگا۔
23 اور اگر تیری آنکھ خراب ہو تو تیرا سارا بَدَن تارِیک ہو گا۔ پَس اگر وہ روشنی جو تُجھ میں ہے تارِیکی ہو تو تارِیکی کَیسی بڑی ہوگی۔
24 کوئی آدمِی دو مالِکوں کی خِدمت نہِیں کر سکتا کِیُونکہ یا تو ایک سے عَداوَت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہِیں کرسکتے۔
25 اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے؟ اور نہ اپنے بَدَن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بَدَن پوشاک سے بڑھ کر نہِیں؟
26 ہوا کے پرِندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھِیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تُمہارا آسمانی باپ اُن کو کھِلاتا ہے۔ کیا تُم اُن سے زیادہ قدر نہِیں رکھتے؟
27 تُم میں اَیسا کون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟
28 اور پوشاک کے لِئے کِیُوں فِکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے دَرختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کِس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔
29 تو بھی مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان وشوکت کے اُن میں سے کِسی کی مانِند مُلبّس نہ تھا۔
30 پَس جب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنُور میں جھونکی جائے گی اَیسی پوشاک پہناتا ہے تو اَے کم اِعتِقادو تُم کو کِیُوں نہ پہنائے گا؟
31 اِس لِئے فِکرمند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے یا کیا پہنیں گے؟
32 کِیُونکہ اِن سب چِیزوں کی تلاش میں غَیر قَومیں رہتی ہیں اور تُمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُم اِن سب چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
33 بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُصکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی۔
34 پَس کل کے لِئے فِکر نہ کرو کِیُونکہ کل کا دِن اپنے لِئے آپ فِکر کرلے گا۔ آج کے لِئے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔
عیب جوئی نہ کرو کہ تُمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے۔
2 کِیُونکہ جِس طرح تُم عیب جوئی کرتے ہو اُسی طرح تُمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی۔ اور جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے واسطے ناپا جائے گا۔
3 تُو کِیُوں اپنے بھائِی کی آنکھ کے تِنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتِیر پر غور نہِیں کرتا؟
4 اور جب تیری ہی آنکھ میں شہتِیر ہے تو تُو اپنے بھائِی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ لا تیری آنکھ میں سے تِنکا نِکال دُوں؟
5 اَے رِیاکار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتِیر نِکال پھِر اپنے بھائِی کی آنکھ میں سے تِنکے کو اچھّی طرح دیکھ کر نِکال سکے گا۔
6 پاک چِیز کُتّوں کو نہ دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے نہ ڈالو۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ اُن کو پاؤں کے تَلے رَوندیں اور پلٹ کر تُم کو پھاڑیں۔
7 مانگو تو تُم کو دِیا جائے گا۔ ڈھُونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تُمہارے واسطے کھولا جائے گا۔
8 کِیُونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے مِلتا ہے اور جو ڈھُونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا۔
9 تُم میں اَیسا کون سا آدمِی ہے کہ اگر اُس کا بَیٹا اُس سے روٹی مانگے تو وہ اُسے پتھّر دے؟
10 یا اگر مَچھلی مانگے تو اُسے سانپ دے؟
11 پَس جبکہ تُم بُرے ہوکر اپنے بچّوں کو اچھّی چِیزیں دینا جانتے ہو تو تُمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھّی چِیزیں کِیُوں نہ دے گا؟
12 پَس جو کُچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تُمہارے ساتھ کریں وُہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو کِیُونکہ توریت اور نبِیوں کی تعلِیم یِہی ہے۔
13 تنگ دروازہ سے داخِل ہو کِیُونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اور وہ راستہ کُشادہ ہے جو ہلاکت کو پُہنچاتا ہے اور اُس سے داخِل ہونے والے بہُت ہیں۔
14 کِیُونکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سُکڑا ہے جو زِندگی کو پُہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔
15 جھُوٹے نبِیوں سے خَبردار رہو جو تُمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔
16 اُن کے پھَلوں سے تُم اُن کو پہچان لوگے۔ کیا جھاڑیوں سے انگُور یا اُونٹ کٹاروں سے اِنجیر توڑتے ہیں؟
17 اِسی طرح ہر ایک اچھّا دَرخت اچھّا پھَل لاتا ہے۔
18 اچھّا دَرخت بُرا پھَل نہِیں لاسکتا نہ بُرا دَرخت اچھّا پھَل لاسکتا ہے۔
19 جو دَرخت اچھّا پھَل نہِیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔
20 پَس اُن کے پھَلوں سے تُم اُن کو پہچان لوگے۔
21 جو مُجھ سے اَے خُداوند اَے خُداوند کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخِل نہ ہوگا مگر وُہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔
22 اُس دِن بہُتیرے مُجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبُوّت نہِیں کی اور تیرے نام سے بَدرُوحوں کو نہِیں نِکالا اور تیرے نام سے بہُت سے مُعجِزے نہِیں دِکھائے؟
23 اُس وقت میں اُن سے صاف کہہ دُوں گا کہ میری کبھی تُم سے واقفِیت نہ تھی اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔
24 پَس جو کوئی میری یہ باتیں سُنتا اور اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس عقلمند آدمِی کی مانِند ٹھہریگا جِس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔
25 اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلِیں اور اُس گھر پر ٹکرّیں لگِیں لیکِن وہ نہ گِرا کِیُونکہ اُس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی۔
26 اور جو کوئی میری یہ باتیں سُنتا اور اُن پر عمل نہِیں کرتا وہ اُس بیوقُوف آدمِی کی مانِند ٹھہریگا جِس نے اپنا گھر ریت پر بنایا۔
27 اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلِیں اور اُس گھر کو صدمہ پُہنچایا اور وہ گِر گیا اور بالکُل برباد ہوگیا۔
28 جب یِسُوع نے یہ باتیں ختم کِیں تو اَیسا ہُؤا کہ بھِیڑ اُس کی تعلِیم سے حَیران ہُوئی۔
29 کِیُونکہ وہ اُن کے فقِیہوں کی طرح نہِیں بلکہ صاحبِ اِختیّار کی طرح اُن کو تعلِیم دیتا تھا۔
COMMENT: markmulligan@comcast.net